زیر نظرکتاب میں کتاب وسنت ،اقوال سلف،اور تورات وانجیل کی روشنی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کےفضائل ومناقب کو بیان کرکے ان کی راہ پرچلنے کی نصیحت کی گئی ہے۔
زیرنظرکتاب میں لباس کے متعلق شرعی احکام وآداب بیان کرکے مختلف قسم کے لباسوں کا تذکرہ کرکے ان کا حکم بیان کیا گیا ہے نیز بے حجابی اوربے پردگی کی تردید کی گئی ہے اورحجاب وپردہ اپنانے کی نصیحت کی گئی ہے کیونکہ اسی میں عورتوں کی عفت وعصمت محفوظ رہ سکتی ہے۔
زیرنظرکتاب میں امربالمعروف ونہی عن المنکر کی اہمیت وفضیلت،اس کے وجوب،وآداب ،وشرائط،ارکان،ومراتب اس فریضہ کے اثرات،اس کے ترک کرنے پر جو عقوبتیں ہیں ان سب کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ نیز صحابہ کرام نے اس فریضہ کو کس طرح بحسن خوبی انجام دیا اور اس کے اچھے اثرات فرد ومعاشرہ پر مرتب ہوئے ان کا بھی اجمالی تذکرہ ہے۔
زیرنظرکتاب میں اسلام کے چوتھے رکن صوم رمضان کے بارے میں گفتگوکرتے ہوئے صوم کی اہمیت وفضیلت ،صوم رمضان کی خصوصیت،تراویح،لیلۃ القدر،اعتکاف،صدقۃ الفطروغیرہ کے مسائل کو نہایت ہی بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے نیز صوم سے متعلق منتشربعض ضعیف اورغیرثابت شدہ روایات کا تذکرہ کرکے ان سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔
زیر نظر کتاب میں مسائل روزہ پر مفصّل بحث کی گئی ہے، اورہرحدیث پرحکم کے سلسلے میں علامہ البانی ودگرمحقیقن کے حکم سے استفادہ کیا گیا ہے،مسائل اربعہ کے علاوہ عرب وعجم کے قدیم وجدید علماء ومفتیان اور فقہائے عظام کے فتاوی جات بھی نقل کئے گئے ہیں۔،
زیرنظر کتاب میں ماہ رمضان کی اہمیت وفضیلت اوراس کی خصوصیات کو ذکرکرکےاس ماہ کے بارے میں سلف صالحین (صحابہ،تابعین وتبع تابعین) رحمہم اللہ کے حالات کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ وہ اس ماہ کی آمد کا شدت سے انتظار کرتے تھے اور جب یہ ماہ آجاتا تو صیام وقیام،صدقات وخیرات،تلاوت قرآن کریم،اعتکاف ودیگراعمال برّ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔لہذا ہمیں بھی انہی کے نقش قدم پرچل کراس موسم بہار کو غنیمت جان کرخوب زیادہ نیکی وبھلائی کے کام کرنا چاہیئے۔(تالیف:محترمہ ام عبد منیب،ناشر:مشربہ علم وحکمت،لاہور)
زیر نظر کتاب ’’قربانی عقیقہ اور عشرہ ذی الحجہ‘‘مولانا محمد فاروق رفیع﷾(مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور) کی اس مسئلہ پر تحقیقی وعلمی کاوش ہے ۔ جس میں موصوف نے قربانی کے تمام متعلقہ احکام ومسائل کو حتی الامکان خوب کھول کر بیان کیا ہے۔ہر مسئلہ کو قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کے ٹھوس دلائل سے ثابت کیا گیا ہے ۔پھر کسی مسئلہ میں اگر کچھ اختلاف ہے تومختلف مذاہب وآراء کو نقل کرنے کےبعد کتاب وسنت کے قریب ترین مذہب کے راجح ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ قربانی کے مسائل کے ساتھ عقیقہ کے مسائل کافی مشابہت رکھتے ہیں ۔ فاضل مصنف نے حتیٰ الوسع اس کتاب میں عقیقہ کے تمام مسائل بھی یکجا کردئیےہیں۔اس کتاب کے اس ایڈیشن میں عشرہ ذی الحجہ کے فضائل ومسائل بھی شامل کردئیے ہیں ۔کیونکہ قربانی کا تعلق بھی انہی ایام سے ہے اللہ تعالی اسے مؤلف،اس کے والدین،اساتذۂکرام اور اہل خانہ کے لیے اجر وثواب کا ذریعہ اور توشۂ آخرت بنائے (آمین) (م۔ا )
اللہ رب العزّت کے امّت اسلامیہ پر ان گنت احسانات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے اپنی کتاب عزیز قرآن مجید اور سنّت مصطفیٰﷺ میں اپنے خلیل ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بحیثیت والد سیرت مطہّرہ کو ہمیشہ ہمیش کے لیے محفوظ فرمادیا ہے جو کہ راہ نمائی کے طلب گار والدین کے لئے مشعل راہ اور منارہدایت ہے۔ان کی سیرت مطہرہ میں اولاد کے متعلق والدین کے بہت سے سوالات کے جوابات موجود ہیں ،انہی سوالات میں سےدرج ذیل تین سوالات ہیں جو اس کتاب کا بنیادی موضوع ومحور ہیں: ۱۔ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لیے کن چیزوں کو پسند فرمایا؟ ۲۔انہوں نے کن چیزوں سے اپنی اولاد کو بچانے کی رغبت اور کوشش کی؟ ۳۔اولاد کے بارے میں اپنے عزائم اور ارادوں کی تکمیل کے لیے انہوں نے کیا طریقے اختیارکئے؟
زیر تبصرہ کتاب’’حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا قصہ، تفسیر ودروس‘‘ پروفیسر فضل الٰہی ظہیر حفظہ اللہ کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی واقعہ قربانی پر مشتمل تفصیلی کتاب ہے۔ پروفیسر صاحب نےاس قصہ کوسمجھنے سمجھانے اوراس میں موجود دروس اور عبرتوں سے فیض یاب ہونے اور دوسروں کوفیض کرنے کےلیے اس کتا ب کومرتب کیا ہے۔ انہوں نے اس قصہ سےمتعلقہ آیات کی تفسیر اوران سے اخذ کردہ دروس اور عبرتوں کے تحریر کرنے میں معتمد تفسیروں سے استفادہ کیا ہے۔ اور ضعیف احادیث اوراسرائیلی روایات سے کلی طور پر اجنتاب کیا ہے کیوں کہ ثابت شدہ تھوڑی معلومات غیر ثابت شدہ زیادہ معلومات سے کہیں بہترہیں۔ مصنف موصوف نے قصہ سے متعلقہ آیات پندرہ حصوں میں تقسیم کی کیں ہیں اور ہر حصے میں اس کی تفسیر اوراخذ کردہ دروس بیان کیے گئے ہیں۔ بیان کردہ دروس کی مجموعی تعداد بتیس ہے۔ اپنے موضوع پر یہ کتاب انتہائی جامع اور مستند ہے۔ اللہ تعالیٰ پروفیسر صاحب کی تمام دعوتی وتبلیغی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات قبول فرمائے۔(آمین)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى صَبِيًّا حَلَقَ بَعْضَ رَأْسِهِ وَتَرَكَ بَعْضَ فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ احْلِقُوهُ كُلَّهُ أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet ﷺ saw a boy, part of whose head had been shaven and part had been left. He ﷺforbade that and said: “Shave all of it, or leave all of it.”
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک
لڑکے کو دیکھا کہ جس کا کچھ سر منڈا ہوا تھا اور کچھ سر منڈا ہوا نہیں تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے اس سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا تمام سر منڈواؤ یا تمام سر پر بال رکھو۔